Monday, August 15, 2016

دو چڑیاں



سندھ کی لوک کہانیاں


تحقیق و ترتیب: نبی بخش خان بیلچون

انگریزی سے ترجمہ : حیدر شمسی

دو چڑیاں


ایک چڑیا تھی اور ایک چڑا تھا۔چڑیا گھر میں چاول کا دانہ لائی اور چڑامونگ کا دانہ لایا۔دونوں کو ملا کر انھوں نے کھچڑی پکائی۔پھر چڑیا پانی لینے کے لیے گھر سے باہر گئی۔جب تک کہ وہ واپس آتی چڑے نے تمام کھچڑی کھا لی اورآنکھوں پر کپڑے کا ٹکڑا ڈال کے سوگیا۔ چڑیا پانی سے بھرے ہوئے مٹکے لے کر گھر کے دروازہ پر پہنچی۔مٹکے ایک کے اوپر ایک رکھے ہوئے تھے۔چڑیا نے اپنے سر سے مٹکے اتارنے کے لیے چڑے کو آواز دی۔چڑے نے جواب دیا’’ایک ایک کر کے تم خود اتار لوپہلے اوپر والا اُتارواور پھر نیچے والا۔‘‘
چڑیا نے ویسا ہی کیا جیسا اس سے کہا گیا۔
جب وہ گھر نے اندر آئی تو اس نے دیکھا کہ کھچڑی کا برتن خالی ہے۔اس میں کھچڑی کا نام کو نہیں ہے تب اس نے چڑے سے پوچھا’’ کھچڑی کہاں گئی؟‘‘
’’ کس نے کھائی کھچڑی؟‘‘ چڑے نے جواب دیا’’ضرور راجا کے کتے نے کھائی ہوگی۔‘‘
یہ سنتے ہی چڑیا چڑے کو ساتھ لے کر راجا کے گھر گئی۔’’راجا.......آپ کے کتے نے میری کھچڑی کھالی۔‘‘
راجا نے جواب دیا’’جو تم کہہ رہی ہو اسے ثابت کر کے دکھاؤتاکہ فیصلہ کیا جاسکے‘‘۔چڑیا نے جواب دیا’’ میں آپ کی بات سے متفق ہوں‘‘۔راجا نے کہا چلو کنویں پر چلتے ہیں۔‘‘
جب وہ لوگ کنویں پر پہنچے ،راجا نے ایک کمزور رسّی ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ’’ہم سب کو اس رسّی کے سہارے کنویں میں تیرنا ہے جو تیرنے میں نا کام ہوا سمجھو اسی نے کھچڑی کھائی ہے۔‘‘
سب سے پہلے چڑیا کنویں میں گئی اور تب تک تیرتی رہی جب تک کہ وہ تھکی نہیں لیکن رسّی نہیں ٹوٹی۔پھر چڑے کی باری آئی۔ اس نے تیرنا شروع بھی نہیں کیا تھا کہ رسّی ٹوٹ گئی اور وہ پانی میں ڈوب گیا۔
چڑیا نے یہ دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔چڑیا کی آہ و زاری سن کر بلی وہاں آپہنچی اور پوچھا’’کیا وجہ ہے بہن جو آپ رورہی ہیں؟‘‘ چڑیا نے جواب دیا’’چڑا پانی میں گر گیاہے۔‘‘
بلی نے کہا’’ اگر میں اسے پانی سے جاکر نکال لاؤ ں تب تم مجھے کیا دوگی۔‘‘ چڑیا نے جواب دیا ’’میں تمھیں دودھ اور چاول کی بنی ہوئی کھیر کھلاؤں گی اورآٹے کا بنا ہوا پراٹھا۔‘‘ چڑیا کی پیشکش سن کر بلی کے دل میں لالچ آگئی۔
بلی چڑے کو پانی میں سے نکال لائی اور اس نے چڑیا سے کہا’’اب مجھے کھیر اور پراٹھا کھلاؤ۔‘‘
چڑیا نے اس سے کہا ’’تم آج جاؤ اور جب ہمارے گھر سے دھواں نکلتے دیکھنا تب تم آنا‘‘۔
چند دنوں بعد چڑیا نے گھر میں بڑی آگ جلائی اور توا اس وقت تک گرم کیاجب تک کہ وہ تپ کر لال نہیں ہوگیا۔اس نے رکاب اس کے بازو میں رکھی اوراسے اوپر سے ڈھک دیاجیسے کہ اس میں کھیر موجود ہو۔
جب بلی نے چڑیا کے گھر سے دھواں نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ وہاں پہنچی ۔ کھانا تیار ہو گیا تھا۔
چڑیا نے کہا’’خوش آمدید ! خوش آمدید! میں کسی نہ کسی کو آپ کے پاس بلانے کے لیے بھیجنے ہی والی تھی۔‘‘
بلی نے کہا’’ کھانے میں زیادہ دیر مت کرو یہ بتاؤ کہ بیٹھنا کہاں ہے۔‘‘
چڑیا نے توے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ وہاں پیاری بلی ،جاکر بیٹھ جاؤ۔‘‘
ٍ بلی ابھی جا کر ٹھیک سے بیٹھی بھی نہ تھی کہ اس کا پچھلا حصّہ جل گیا۔وہ درد کے مارے اچھلنے لگی اور اس نے رونا شروع کردیا۔
’’میں نے کچھ کھایا بھی نہیں اور میری پشت جل گئی۔‘‘
’’یہ میری قسمت تھی بہن جس نے مجھے سبق سکھایا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے کراہتی ہوئی چلی گئی اور اس نے دوبارہ چڑیا سے کھانے کے متعلق نہیں پوچھا۔

No comments:

Post a Comment