نیپالی لوک کہانیاں
انگریزی سے ترجمہ : حیدر شمسی
چالاک نائی!
ایک بادشاہ تھا. اسے اپنے نائی کی باتیں بہت پسند تھیں۔ہر صبح نائی اس کی داڑھی بنانے آیا کرتا تھااور داڑھی بناتے وقت وہ مختلف قسم کی باتیں بھی کرتا تھا ۔گویا جو کچھ وہ شہر والوں کے منہ سے سنتا اسے آکر بادشاہ کو بتاتا تھا ۔
البتہ نائی کو شاہی پنڈت سے ایک نوع کی پرخاش تھی کیونکہ دربار کا ہر شخص
پنڈت کوعزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔یہ بات نائی کو نا گوار اور
ناقابلِ برداشت گزرتی تھی ۔ایک دن اس نے پنڈت سے چھٹکارا پانے کا ایک
منصوبہ بنایا ۔دوسرے دن صبح وہ بادشاہ کی داڑھی بنانے آیا اورمعمول کے
برخلاف اس نے بادشاہ سے کوئی بات نہیں کی۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے آج؟ تم بولتے
کیوں نہیں؟‘‘ بادشاہ نے نائی سے پوچھا ۔
آخر کار نائی کے منہ سے چند جملے نکلے’’ گذشتہ رات میں نے ایک خواب
دیکھاکہ میں جنت میں ہوں ،جہاں میری ملاقات آپ کے والد بزرگوار اور عزت مآب
والدہ سے ہوئی۔ لیکن وہ دونوں بہت پریشان تھے ۔‘‘
’’کیوں ؟ انھیں کیا پریشانی ہے؟‘‘ بادشاہ نے پوچھا۔
چالاک نائی نے مسمسی صورت بنا کر کہا ’’ انھیں ایک پنڈت کی اشد ضرورت ہے،
جو ان کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’میں آپ سے اس
بات کا تذکرہ کروں، اگر آپ شاہی پنڈت کو ان کی خدمت میں بھیج سکیں
توفوراََ جنت میں بھیج دیں ۔‘‘
’’لیکن کیسے؟‘‘
’’یہ کام کچھ ایسا مشکل بھی نہیں ہے۔ ‘‘ نائی نے جواب دیا۔’’ بس کفن
پہنانا پڑے گا اور قبر میں لٹا نا ہوگا ۔ پھرپنڈت کی آنکھ سیدھے جنت میں
کھلے گی۔‘‘
’’ اچھا میں سمجھ گیا ۔ میں ایسا ہی کروں گا ۔‘‘
نائی اور بادشاہ کے درمیان جو باتیں ہوئیں اور جوفیصلہ کیا گیا اس کی
اطلاع شاہی پنڈت کو بھی ہوئی۔لیکن وہ بھی بہت ہوشیاراور چالاک تھا۔اس نے
بادشاہ سے درخواست کی کہ ایک مہینے کی مہلت دی جائے تاکہ جنت کے سفر کے لیے
وہ اپنی تیاری مکمل کرسکے۔اس نے قبر کے لیے اپنے ہی باغ میں ایک جگہ منتخب
کی اور ایک درجن مزدوروں کوایسا تہہ خانہ بنانے کے لیے کہاجس کا راستہ
سیدھے اس جگہ سے اس کے گھر کو نکلے۔پھر قبر میں اس نے ٹوٹی پھوٹی لکڑیاں ،
گھاس اور پیڑ کے سوکھے ہوئے پتے سے تہہ خانہ کے دہانے کو چھپا دیا ۔
پھر وہ دن بھی آگیا جب پنڈت کو کفن پہن کر قبر میں لیٹنا تھا ۔جس کی تیاری
وہ پچھلے ایک مہینے سے کر رہا تھا۔پنڈت کو کفن پہنا کرقبر میں لٹا دیا گیا
اورمٹی ڈا ل دی گئی اس طرح تدفین ہوگئی ۔ اندر قبر میں پنڈت نے کفن کھولا
اور تہہ خانہ کے راستے اپنے گھر پہنچ گیا۔تین سال کا عرصہ گزر گیا ۔اس
دوران پنڈت نے اپنے بال، داڑھی اور ناخن نہیں کاٹے اور انھیں بڑھنے دیا
۔ایک دن اچانک وہ گھر سے نکل کر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔اس کے دربار
میں حاضر ہوتے ہی سب کے ہوش اڑ گئے اور سب حیرانی سے پنڈت کو دیکھنے لگے۔
’’تم جنت سے کب واپس آئے؟ بادشاہ نے پوچھا ۔ ’’ اور تم نے اپنی صورت کیا
بنا رکھی ہے۔ تمہارے بال ، داڑھی اور ناخن اس قدر بڑھے ہوئے کیوں ہیں؟ ‘‘
’’ اسی لیے تو میں آج یہاں آیا ہوں۔‘‘ پنڈت نے جواب دیا۔ ’’کون بے وقوف ہے
جو جنت کا آرام چھوڑ کر یہاں زمین پر آئے گا ۔اگر خاص مقصددرپیش نہ
ہوتا تو میں کبھی یہاں نہ آتا؟ آپ کو معلوم ہے تقریباََایک سال ہوگئے۔ آپ کے
والد کے پاس ایک استاد نائی تھا جسے کسی وجہ سے پچھلے چند مہینوں سے جنت
سے باہر کسی کام کے لیے بھیج دیا گیا ہے ۔ اس کی جگہ کوئی دوسرا نائی اب تک
جنت میں نہیں آیا ۔آپ کے والد بزرگوار نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے
پاس جاؤں اور آپ سے کہوں کہ آپ فوراََ کوئی نائی بھیج دیں تاکہ ان کی ضرورت
پوری ہوجائے۔‘‘
بادشاہ نے نائی کو حکم دیا کے وہ جنت میں چلا جائے۔
نائی بہت زیادہ ڈر گیا کیونکہ اس کی بازی الٹ گئی تھی ۔وہ بہت دیر تک
خاموش رہا۔ لیکن وہ بادشاہ کا حکم ماننے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔بادشاہ
کے حکم دیتے ہی سپاہیوں نے قبر کھودناشروع کردی۔ آخر کار اس حاسد نائی کو
کفن پہنا کر زندہ درگور کر دیا گیا۔

No comments:
Post a Comment