سندھ کی لوک کہانیاں
تحقیق و ترتیب: نبی بخش خان بیلچون
انگریزی سے ترجمہ : حیدر شمسی
سارس اور اس کی مادہ
جھیل کے پاس گز (جھاؤں)کے درخت پر سارس اور اس کی مادہ اپنے بچو ں کے ساتھ رہتے تھے۔ روز سویرے وہ اپنے بچوں کے لیے کھانے کی تلاش میں گھرسے نکل جاتے تھے۔
ایک دن اسی تلاش میں انھیں تل کا ایک کھیت دکھائی دیا۔ سارس نے اپنی مادہ سے کہا’’میں جلدی سے جا کر کھیت سے تل چُن کر لاتا ہوں جب تک کہ تم درخت پر بیٹھ جاؤ‘‘۔مادہ سارس نے اسے روکتے ہوئے کہا’’مت جاؤکافی دیر ہوچکی ہے چلو یہاں سے چلتے ہیں‘ ‘۔لیکن سارس نے اس کی بات نہیں مانی اور اسے چھوڑ کر کھیت کی طرف تل چننے چلا گیا۔
اس نے مشکل سے دو یا تین دانے کھائے ہوں گے کہ کسان وہاں آپہنچا اور اس نے بڑی چالاکی سے سارس پر اپنا جال پھینکااور اسے پکڑ لیا۔ سارس کو جال کے ساتھ اپنے کندھے پر لٹکا کر وہ سیدھا گھر کی طرف روانہ ہوا ۔
سارس کے جال میں پھنس جانے پر مادہ سارس نے زور سے چلا کر کہا’’ میں نے تمہیں جانے سے روکا تھا (روتے ہوئے) واپس آجاؤ ۔ تل مت کھاؤ! تل مت کھاؤ!
سارس نے جواب دیا’’میں بے وقوف تھا میں پاگل تھا‘‘۔میں مر جاؤں گاتم زندہ رہو گی۔اب تم بچوں کے پاس چلی جاؤ! بچوں کے پاس چلی جاؤ!۔
مادہ سارس اپنے بچوں کے پاس چلی گئی۔ اس نے انھیں کھانا کھلایا پانی پلایااورانھیں سلاکرسیدھا کسان کے گھر سارس کی خبر لینے پہنچی۔وہ وہاں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ کسان نے سارس کو مار دیا تھا اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر رہا تھا۔
اس نے کسان سے کہا’’بہت برا ہوا ! بہت برا ہوا! تم سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے‘‘۔
کسان نے جواب دیا’’ میں نے اسے مارا کیوں کہ اس نے میرا تل کھایا تھا‘‘۔
مونث سارس نے کہا’’اچھاتم اسے پکا کر کھا لومگر اس کی ہڈیاں مجھے دے دینا‘‘۔
کسان کی بیوی اور کسان نے سارس کو پکا کر کھا لیا۔ جب وہ لوگ ہڈی کو ایک جگہ اکھٹا کر رہے تھے مادہ سارس وہاں پہنچی اور ہڈیوں کو دیکھ کر گانا گا نے لگی۔
’’ میں نے تمہیں جانے سے روکا تھا (روتے ہوئے) واپس آجاؤ ۔
تل مت کھاؤ! تل مت کھاؤ! ‘‘
اس کے منھ سے الفاظ نکلے بھی نہیں تھے کہ ہڈیوں نے تھر تھرانا شروع کردیا۔وہ یکجا ہوگئیں اورانھوں نے سارس کی شکل اختیار کرلی۔وہ اڑا اور مونث سارس کے برابر میں آکر بیٹھ گیا۔
پھر دونوں اڑ کر اپنے گھونسلے کی طرف اپنے بچوں کے پاس چلے گئے اور سارس نے قسم کھا لی کہ وہ آج کے بعد کسی کی فصل نہیں کھائے گا۔

No comments:
Post a Comment