گیدڑ اور بھالو
نیپالی لوک کہانیاں
انگریزی سے ترجمہ : حیدر شمسی
ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاؤں کے میلے میںآسمانی جھولاجھولتے ہوئے ہوئی۔ انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہیں گے، ساتھ کمائیں گے اور ساتھ کھائیں گے ۔گیدڑ نے کہا ’’میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں، ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے ۔کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع کریں۔‘‘
بھالو نے سوچا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ لہٰذا دونوں گھر کی تلاش میں نکلے۔ گاؤں سے تھوڑے ہی دور جنگل میں جہاں لوگ لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے وہاں انھیں ایک چرواہے کا جھونپڑا نظر آیا جو کئی سالوں سے ویران پڑاتھا ۔انھوں نے بانس کی چھت بنائی اور جھونپڑے کو اچھی طرح سے صاف کیا۔پھر جوئے میں جیتے ہوئے پیسوں سے ایک سانڈ خریدااور زمین کی جوتائی شروع کی۔
بھالوبہت محنتی تھا اوراس کاسلوک گیدڑ کے ساتھ بہت اچھا تھا ،لیکن وہ قدرے بے وقوف تھا۔ دوسری طرف گیدڑ بہت چالاک تھا لیکن اسے کام سے بالکل بھی دلچسپی نہ تھی۔انھوں نے مل کربھٹّے کی فصل تیار کرلی ۔گیدڑ کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بھالو کے ساتھ زندگی بطور کسان نہیں گذار سکتا۔
دوسرے دن صبح گیڈر نے کہادوست میں کھیت میں کام کرتا ہوں اور تم جاؤ سانڈ کو چرا لاؤ۔اس طرح ہم باری باری کام کریں گے تو ہمارے کام کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔
یہ طریقہ بھالو کو بہت پسند آیا۔ وہ روزانہ صبح اٹھتا ،ناشتہ کرتا اور سانڈ کو چرانے نکل جاتا ۔ سانڈ کو چرتا چھوڑ کر اونچی جگہ جا کر بیٹھ جاتا اور دن بھر اس پہ نظر رکھتا ۔اس طرح سانڈ کھو جانے اور شیر کی خوراک بننے سے بچا رہتا۔اس درمیان گیدڑ کھیت میں درخت کے سائے میں دن بھر لیٹا رہتا۔ دھیرے دھیرے فصل بڑھتی گئی۔
جب فصل کی کٹائی کا وقت آیا تو گیدڑ نے کہا’’میرے دوست تم نے بہت محنت کی ہے اورکئی دنوں سے سانڈ کو چرا رہے ہو ۔ سانڈ بھی بہت صحت مند ہو گیا ہے ۔اب اسے چرانے کی میری باری ہے ۔ اب تم کھیت میں کام کرو۔
بھالو اپنی تعریف سن کر خوشی خوشی راضی ہو گیا۔وہ فصل کی کٹائی کرنے لگااور گیدڑ سانڈ کو چرانے چلا گیا۔بھالو مسلسل پورا دن کام کرتا رہتا ۔گیڈر کام چور تھا۔اسے گھنے جنگل میں جہاں سانڈ کے لیے وافر غذا تھی، جانا بھی بھاری پڑتا تھا ۔اسے اونچی جگہ پر چڑھنا اور سانڈ پہ نظر رکھنا بھی بھاری پڑتا تھا ۔لہٰذا وہ دن بھر سانڈ کے ساتھ رہتا کہ کہیں وہ کھو نہ جائے یا شیر کی خوراک نہ بن جائے۔وہ میدانی علاقے میں سانڈ کو چرا تا رہتا یہ اس کے لیے آسان تھا۔ اسے اس کی پرواہ نہ تھی کہ وہاں چھوٹی چھوٹی گھاس ہے۔وہ بیری کے درخت کے نیچے لیٹا رہتا اور سانڈ کو دیکھتا رہتا۔اسے نہ اٹھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سانڈ کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی۔ شام کو تاخیر سے وہ گھر جاتا تاکہ اسے بھالو کے ساتھ فصل کی کٹا ئی میں مدد نہ کرنا پڑے۔
چند ہی دنوں میں سانڈ دبلا پڑ گیا۔اگر چہ بھالو بے وقوف تھا مگر اندھا نہیں تھا۔
اس نے ایک شام کو گیدڑ سے کہا’’دوست ہمارا سانڈ اتنا دبلا کیوں ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
گیدڑ کے پاس جواب تیار تھا۔’’ اس معاملہ میں ہم دونوں برابرنہیں ہیں دوست، تم مجھ سے زیادہ اچھا چراتے ہو‘‘۔ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’جہاں کہیں میں اسے لے جا تا ہوں وہاں مجھ سے پہلے لوگ پہنچ جاتے ہیں اس لیے اسے کھانے کو کم مل پاتا ہے۔لیکن آج میں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرلی ہے جہاں گھاس سانڈ کے گھٹنوں تک اگی ہوئی ہے۔کل میں اسے وہاں لے جاؤں گا اور اسے پیٹ بھر کھلاؤں گا۔‘‘
بھالو کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ گیدڑ اچھا چرواہا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے دن صبح جب گیدڑ سانڈ کو لے جانے کے لیے اس کی رسی کھول رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ فصل کی کٹائی تقریباََ مکمل ہو چکی ہے ۔ اسی دن کا اس کو انتظار تھا ۔وہ سانڈ کو جنگل میں لے گیا مگر گھنی جھاڑی میں نہیں بلکہ بنجر ٹیلہ پر ۔ جہاں گھاس کا نام و نشان نہ تھا۔جب سانڈ نے چرنے کے لیے اپنے سر کو جھکایا تب گیڈر نے اسے دھکا دے دیا اور وہ ٹیلہ سے نیچے گر گیا۔پھر گیدڑ بھاگتا ہوا ٹیلے سے نیچے اترا اور سانڈ کے مردہ جسم کو گھسیٹ کرٹیلے کے سائے میں لے آیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔
صبح کا ناشتہ گیدڑ نے سانڈ کے گوشت سے کیا۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تب اس نے سانڈ کے بچے ہوئے جسم کو پہاڑ کے غار میں چھپا دیا اور غار کے راستے کو پتھروں سے بند کردیا صرف اتنی جگہ چھوڑ دی کہ وہ خود اندر داخل ہو سکے اور سانڈ کی پونچھ سوراخ سے لٹکا کر باہر چھوڑ دی۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے ۔وہ گھر شام کو دیر سے جانا چاہتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ فصل کاٹنے میں آج بھالو کو دیر ہو جائے گی۔
گیدڑ کو دور سے اکیلا آتا دیکھ بھالو نے گیدڑ سے کہا’’سانڈ کہاں ہیں؟‘‘
گیدڑ روتے ہوئے کہنے لگا ’’ دوست آج غضب ہوگیا سانڈ غار کے دہانے میں پھنس گیا ہے۔ میں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اسے نکال نہ سکا کیونکہ میں بہت کمزرور ہوں ۔ میرے دوست تم بہت طاقتور ہو ۔ کل تم میرے ساتھ چلو مجھے یقین ہے کہ تم اسے نکال لو گے۔
بھا لو اپنی تعریف سن کر نرم پڑ گیااور وہ اپنے دوست کی بات ٹال نہ سکا۔
دوسرے دن صبح گیدڑ بھالو کو لے کر غار کے پاس پہنچا ۔گیدڑ نے بھالو سے کہا تم بہت موٹے ہو تم اندر نہیں جا سکتے ،میں اندر جاتا ہوں اور سانڈ کو ڈھکیلتا ہوں تم باہر رہو اورباہر کی طرف کھینچو۔لیکن تب تک مت کھینچنا جب تک میں نہ کہوں۔جب میں کہوں تب تم دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت لگا کر کھینچنا ۔
بھالو راضی ہو گیا اور گیدڑ غار کے اندر چلا گیااور اند رجا کر اس نے سانڈ کو باہر ڈھکیلنے کی پوری تیاری کرلی۔پھر آواز لگائی’’دوست کھینچو!‘‘بھالو نے دونوں ہاتھوں سے پونچھ کو پکڑا اور اپنا پیر سہارے کے لیے غار پر رکھ کرپوری طاقت سے کھینچنے لگا۔جب گیدڑ کو لگا کے بھالو پوری طاقت سے کھینچ رہا ہے تب اس نے سانڈ کو باہر کی طرف ڈھکیل دیا ۔بھالو سانڈ کے وزن کو سنبھا ل نہ سکا اور لڑکھڑا کر پہاڑسے نیچے ندی میں گر گیا۔
گیدڑہاتھ جھاڑ کر مسکرانے لگا ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تھا۔فصل پوری کٹ چکی تھی۔سانڈ کو بھی اب چرانے کی ضرورت نہیں تھی اور اب بھالو بھی نہیں تھا جو اسے غلطیوں پر ٹوکتا۔ دھوکہ باز گیدڑ نے سوچا’’اب جیسا میں چاہوں ویسا کر سکتا ہوں کوئی بولنے والا نہیں ہے۔‘‘
وہ بھاگتا ہواگھر آیا ۔کلہاڑی اور باسکٹ لے کر پھر پہاڑی پر گیا تاکہ سانڈ کا بچا ہوا گوشت کھا سکے اورجو بچے اسے کاٹ کر گھر لا سکے۔گیدڑ نے گھر سے دلیابھی ساتھ لے لیا تا کہ دوپہر کا کھانا ڈٹ کر کھا سکے ۔ وہ یہ ساری چیزیں لے کر پہاڑی پر پہنچا ۔
وہاں پہنچتے ہی وہ ششدر رہ گیا۔ غار کے سامنے بھالوہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا۔
’’ ارے دوست ‘‘گیدڑ کو دیکھ کر بھالو نے کہا۔’’سانڈ کا کیا ہوا؟‘‘
’’تم نے زیادہ زور سے کھینچ دیا ‘‘ گیدڑ نے برجستہ جواب دیا۔’’ تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں تھا ۔ تمہارے ساتھ ہی سانڈ بھی دریا میں گر گیا اور ڈوب گیا۔وہ دریا میں بہت زور سے گرا تھا پانی بھی بہت اوپر تک اچھلا تھا۔‘‘ ’’میرے پیارے دوست‘‘بھالوبڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا’’اب ہم اس سے کبھی نہیں مل سکتے ۔ افسوس ایک کارآمد ساتھی نہیں رہا !‘‘ پھراس نے گیدڑ کی طرف دیکھ کر کہا’’تم کلہاڑی اور باسکٹ اپنے ساتھ کیوں لائے ہو؟‘‘
’’میں نے سوچا کہ میں جنگل میں جا کر کچھ لکڑیاں کاٹ لاؤں گا۔مجھے معلوم تھا کہ تم دریا سے بچ کر نکل آؤ گے ، تمہیں سردی لگ جائے گی اور تم کام نہیں کر پاؤں گے۔میں تم سے کہنے ہی والا تھا کہ تم گھر جا کر تھوڑا آرام کرلو۔‘‘
تمہیں اپنے آپ پر رشک کرنا چاہئے کہ تمہارے بارے میں اتنا سوچنے والا بھائی جیسا دوست ملا۔پھر بھالو نے دلیا کی طرف دیکھ کر کہا ’’تم دلیا کیوں اپنے ساتھ لائے؟‘‘
’’میں نے سوچا کہ تم تیرتے تیرتے بہت تھک گئے ہوگے اور تمہیں بہت بھوک لگی ہو گی۔ اس لیے میں گھر جاکر تمہارے لیے دلیا لے آیا۔‘‘
بھالو کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ خوش نظر آنے لگا۔
’’میرے دوست تم لاکھوں میں ایک ہو‘‘ اس نے چلا کر کہا اور گیدڑ کو گلے سے لگا لیا۔
گیڈر نے بھی ہنسنا شروع کر دیا ۔وہ دونوں ہنسی خوشی پہاڑ سے نیچے اتر گئے۔جب دونوں ہنستے ہنستے نڈھال ہوگئے تب انھوں نے ساتھ مل کردلیا کھایا۔پھر جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر دونوں ساتھ لائے ۔
دونوں ایک دوسرے کے اب تک دوست تھے ۔حالانکہ کسی کوبھی یقین نہیں ہوتا تھا کہ بے وقوف اور محنتی بھالو چالاک اور کام چور گیدڑ کا دوست کیسے بنابنا۔

No comments:
Post a Comment